آخر سب سے دوری کیوں؟

السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ:
*طالب الدین*
*یہ نہ سمجھنا کہ تم کو بھلا دیا ہے طالب،*
*وہ اور بات ہے کہ دنیا کے رہتے ہیں کام غالب*
سب ساتھیوں کی خدمت میں پیار ، محبت اور احترام  کے ساتھ عرض ہے کہ پہلے جب ہر جگہ محبت، عزت و اکرام اور مہمان نوازی ہوتی تھی، زندگی کا مقصد پیسہ اور دولت نہیں تھا۔ دنیاوی زندگی کو ثانوی درجہ حاصل تھا۔ تب لوگ ایک دوسرے کے دعوتیں کرتے تھے۔
مہمانوں کی خوب خدمت چاکری ہوتی تھی۔
ان کے لیے خوب وقت ہوتا تھا۔
مہمانوں کو خوب دھیان سے سنا جاتا تھا۔ ان کے ساتھ پوری پوری رات گپ شپ چلتی تھی۔
صرف بڑے بولتے تھے اور چھوٹے سنتے تھے۔
بڑے حضرات اپنے تجربات اور زندگی کی روئداد سناتے تھے۔ زندگی میں کیے گئے مشاہدے اور پیدل سفر کی تکالیف۔۔۔الغرض بہت کچھ سیکھنے کو ملتا۔
وہی بڑے چھوٹوں کی آئیڈیل شخصیت بن جاتے۔
دلیری اور غیرت کے قصوں کے ساتھ ساتھ عزت و احترام کی مثالیں دی جاتیں۔ وفا، قربانی اور سخاوت پر مبنی حقیقی یا صدیوں پرانے چلتے قصے، کہانیاں یا افسانے سنائے جاتے۔
یہ باتیں چھوٹوں پر اپنا اثر ہمشیہ کے لیے چھوڑ جاتیں۔
اتنا ہی نہیں پہیلیاں اور پیچیدہ پیچیدہ زبانی حساب دیے جاتے جس سے ذہن کی ورزش ہوتی اور دماغ تیز ہوتا۔
بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی جسمانی و دماغی کھیل کھیلے جاتے۔
الغرض، ایک دوسرے سے ملتے رہنا، ایک دوسرے سے رابطے میں رہنا تعلقات کو مضبوط بناتا ہے۔
تعلقات کو مضبوط یا ختم ہونے سے بچائیں۔ ایک دوسرے سے رابطے میں رہا کریں۔ زیادہ وقت تو بس دعا سلام کر لیا کریں۔
شکریہ۔
والسلام۔

admin

I am an English language teacher. I have made English very simple for everyone to learn it very easily. I have changed arrangement of topics taught usually. It makes learning English easier than ever. The method has been liked by everyone, specially by Madaris students, Islamic scholars and the weak students. I have taught English for over 20 years to students from Schools, colleges, university, Madaris, advocates etc. I teach English through What's App, Zoom etc.

Leave a Reply